Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
176 - 329
سوال …:  	کیا روزہ پہلے کی امتوں پر بھی فرض تھا؟ 
جواب …:  	جی ہاں !  روزہ گُزَشتہ اُمَّتوں میں بھی تھا مگر اُس کی صُورت ہمارے روزوں سے مختلِف تھی۔ رِوایات سے پتا چلتا ہے کہ 
٭…  حضرتِ سَیِّدُنا آدَم عَلَیْہِ السَّلَام نے (ہر اسلامی ماہ کی)  ۱۳،۱۴،۱۵ تاریخ کو روزہ رکھا۔(1)
٭…  حضرتِ سَیِّدُنا نُوح عَلَیْہِ السَّلَام  ہمیشہ روزہ دار رہتے۔(2)
٭…  حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ہمیشہ روزہ رکھتے تھے کبھی نہ چھوڑتے تھے ۔ (3)
٭…  حضرتِ سَیِّدُناداود عَلَیْہِ السَّلَام ایک دن چھوڑ کرایک دن روزہ رکھتے ۔ (4)
٭…  حضرتِ سَیِّدُنا سُلَیمان عَلَیْہِ السَّلَام تین دن مہینے کے شروع میں ، تین دن درمیان میں اور تین دن آخِر میں (یعنی مہینے میں ٭دن) روزہ رکھا کرتے۔ (5)
روزہ تقویٰ و پرہیز گاری کی علامت ہے
سوال …:  	کیا روزہ تقویٰ و پرہیز گاری کی علامت ہے؟ 
جواب …:  	جی ہاں !  روزہ پرہیز گاری کی علامت ہے کیونکہ سَخْت گرمی کے دنوں میں جب پیاس سے حلْق سُوکھ رہا ہو، ہَونٹ خُشک ہو چکے ہوں اور پانی بھی موجُود ہو تو بھی روزہ دار اُس کی طرف دیکھتا تک نہیں ۔ اسی طرح بھوک کی شِدّت کے باوجود روزہ دار کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ دار کا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  پر کِتنا پُختہ ایمان ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اِس کی حَرَکَت ساری دُنیا سے تَو چُھپ سکتی ہے مگر



________________________________
1 -    کنز العمال،   کتاب الصوم،   الجزء الثامن،   ۴ / ۲۵۸،   حدیث: ۲۴۱۸۸
2 -    ابن ماجہ،   کتاب الصیام،   باب ما جاء فی صیام نوح،   ۲ / ۳۳۳،   حدیث: ۱۷۱۴
3 -    کنز العمال،   کتاب الصوم،   الجزء الثامن،   ۴ / ۳۰۴،   حدیث: ۲۴۶۲۴
4 -    مسلم،   کتاب الصیام،   باب النھی عن صوم الدھر    الخ،   ص۵۸۷،   حدیث: ۱۸۷ - (۱۱۵۹)
5 -    کنزالعمال،   کتاب الصوم،   الجزء الثامن،   ۴ / ۴ ۰ ۳،   حدیث: ۲۴۶۲۴