اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ دنیا ومَافِیْھا (یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس) سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قبر والوں کو ان کے زندہ مُتَعَلِّقین کی طرف سے ہَدِیّہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے، زندوں کا ہدیّہ (یعنی تحفہ) مُردوں کیلئے دُعائے مغفرت کرنا ہے۔ (1) اور طَبَرانِی شریف میں ہے: جب کوئی شخص میِّت کو اِیصال ثواب کرتا ہے تو جبرئیل امین اسے نُورانی طباق (بڑی پلیٹ) میں رکھ کر قبر کے کَنارے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں : ’’ اے قبر والے ! یہ ہَدِیّہ (تحفہ) تیرے گھر والوں نے بھیجا ہے قَبول کر۔ ‘‘ یہ سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور اس کے پڑوسی اپنی محرومی پر غمگین ہوتے ہیں ۔(2)
سوال …: کیا ایصالِ ثواب کے لیے دن وغیرہ مقرر کرنا جائز ہے؟مثلاً تیجہ، دَسواں ، چالیسواں اور برسی (یعنی سالانہ ختم) وغیرہ ۔
جواب …: زِندوں کے اِیصالِ ثواب سے یقیناً مُردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مگر شریعت نے ایصالِ ثواب کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں فرمایا بلکہ جب کسی کا دل چاہے اپنی سہولت کے لیے کوئی بھی وقت اور دن مقرر کر سکتا ہے۔ چاہے وہ تیسرا دن ہو یا دَسواں یا چالیسواں یا کوئی اور دن ہو، بلکہ اِنتقال کے بعد ہی سے قرآنِ مجید کی تلاوت اور خیر خیرات کا سلسلہ بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
سوال …: کیا ایصالِ ثواب صرف مُردوں کو ہی کیا جا سکتا ہے؟
جواب …: جی نہیں ! ایصالِ ثواب مردوں کے ساتھ ساتھ زِندوں کو بھی کیا جا سکتا ہے۔
سوال …: بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی نیاز اور لنگر وغیرہ کھانا کیسا ہے؟
جواب …: بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی نیاز اور لنگر وغیرہ کھانا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ باعثِ بَرَکت بھی ہے۔
________________________________
1 - شعب الایمان، الخامس والخمسون من شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، ۶ / ۲۰۳، حدیث: ۷۹۰۵
2 - المعجم الاوسط، ۵ / ۳۷ ، حدیث:۶۵۰۴