Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
168 - 329
ترجمہ:  تو اسے یاد کر جس پر تو دنیا سے نکلا یعنی یہ گواہی کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے رب اور اسلام کے دین اور محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نبی اور قرآن کے امام ہونے پر راضی تھا۔ (1)
سوال …:  	 تلقین کا کیا فائدہ ہے؟ 
جواب     …:  	  تلقین کا فائدہ یہ ہے کہ جب منکر نکیر سوال کرنے آتے ہیں اور لوگوں کو میت کو تلقین کرتے دیکھتے ہیں تو ان میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے:  چلو!  ہم اس کے پاس کیا بیٹھیں جسے لوگ اس کی حجت سکھا چکے۔ 
سوال …:  	 اگر کسی کو میت کی ماں کا نام معلوم نہ ہو تو تلقین کے وقت کیا کہے؟ 
جواب     …:  	  اگر کسی کو میت کی ماں کا نام معلوم نہ ہو تو ماں کی جگہ حضرت سیدتنا حوا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نام لے لے۔ (2)
٭…٭…٭
ایصالِ ثواب
سوال …:  	ایصالِ ثواب سے کیا مراد ہے؟
جواب …:  	ایصالِ ثواب سے مراد یہ ہے کہ زِندہ لوگ اپنے ہر نیک عمل اور ہر قسم کی عبادت خواہ مالی ہو یا بدَنی، فرض و نفل اور خیر خیرات کا ثواب مُردوں کو پہنچا سکتے ہیں ۔ 
سوال …:  	 کیا ایصالِ ثواب کا ذکر کسی حدیثِ پاک میں بھی مروی ہے؟
جواب …:  	جی ہاں !  بہت سی احادیثِ مبارکہ میں ایصالِ ثواب کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ، 
		سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ مشکبار ہے:  مُردہ کا حال قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانند ہے کہ وہ شدّت سے اِنتظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یاکسی دوست کی دعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا 



________________________________
1 -    المعجم الکبیر،    ۸ / ۲۴۹،   حدیث:  ۷۹۷۹
2 -    نماز كے احكام،   ص ۴۶۰