٭… تلقین کریں ۔
٭… قبر کے سرہانے قبلہ رو کھڑے ہو کر اذان دیں ۔
٭… قبر پر پھول ڈالنا بہتر ہے کہ جب تک تر رہیں گے تسبیح کریں گے اور میت کا دل بہلے گا۔ (1)
تلقین
سوال …: تلقین کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب …: دفن کے بعد مُردہ کو تلقین کرنا شرعاً جائز ہے۔
سوال …: کیا تلقین حدیث سے ثابت ہے؟
جواب …: جی ہاں ! تلقین حدیثِ پاک سے ثابت ہے۔
سوال …: تلقین کا طریقہ کیا ہے؟
جواب …: تلقین کا طریقہ حدیثِ پاک میں کچھ یوں مروی ہے: جب کوئی مسلمان فوت ہو تو اسے دفن کرنے کے بعد ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر تین بار یہ کہے: یا فلاں بن فلانہ! (فلاں کی جگہ میت کا نام اور فلانہ کی جگہ میت کی والدہ کا نام لے) پہلی بار وہ سنے گا مگر جواب نہ دے گا۔ دوسری بار سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا اور تیسری بار یہ جواب دے گا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے! ہمیں ارشاد کر۔ مگر پکارنے والے کو اس کے جواب کی خبر نہیں ہوتی، لہٰذا تین بار یا فلاں بن فلانہ کہنے کے بعد یہ کہے:
________________________________
1 - ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی وضع الجرید الخ، ۳ / ۱۸۴ ماخوذاً