٭… اوڑھنی کو آدھی پیٹھ کے نیچے بچھا کر سر پر لا کر منہ پر نقاب کی طرح ڈال دیں کہ سینے پر رہے۔ اس کا طول آدھی پشت سے نیچے تک اورعرض ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک ہو۔ بعض لوگ اوڑھنی اس طرح اوڑاھتے ہیں جس طرح عورتیں زندگی میں سر پر اوڑھتی ہیں یہ خلافِ سنت ہے۔
٭… پھر بدستور تہبند و لفافہ یعنی چادر لپیٹیں ۔
٭… پھر آخر میں سینہ بند پستان کے اوپر والے حصے سے ران تک لا کر کسی ڈوری سے باندھیں ۔
تجہیز و تکفین اور نمازِ جنازہ پڑھنے کی فضیلت
سوال …: کیا تجہیز و تکفین اور نمازِ جنازہ پڑھنے کی فضیلت بھی مروی ہے؟
جواب …: جی ہاں ! تجہیز و تکفین اور نمازِ جنازہ پڑھنے کی فضیلت بہت سی روایات میں مروی ہے۔ چنانچہ،
٭… امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جو کسی میت کو نہلائے، کفن پہنائے، خوشبو لگائے، جنازہ اُٹھائے، نماز پڑھے اور (نہلاتے وقت) جو ناقص بات نظر آئے اسے چھپائے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔(1)
٭… سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: جو شخص (ایمان کا تقاضا سمجھ کر اور حصولِ ثواب کی نیت سے) اپنے گھر سے جنازہ کے ساتھ چلے، نمازِ جنازہ پڑھے اور دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے، اس کے لئے دو قیراط(2)ثواب ہے جس میں ہر قیراط اُحد (پہاڑ) کے برابر ہے اور جو شخص صرف نمازِ جنازہ پڑھ کر واپس آجائے (اور تدفین میں شریک نہ ہو) تو اس کے لئے ایک قیراط ثواب ہے۔(3)
________________________________
1 - ابن ماجہ، كتاب الجنائز، باب ماجاء فی غسل الميت، ۲ / ۲۰۱ ، حدیث: ۱۴۶۲
2 - قیراط اصل میں نصف دانق یعنی درہم کے بارھویں حصے کو کہتے ہیں۔ (عمدۃ القاری ، ۱۴ / ۴۸۳)
3 - مسلم، كتاب الجنائز، باب فضل الصلاة علی الجنازة، ص ۴۷۲، حديث: ۵۶ - (۹۴۵)