خطبہ کے متعلق چند مفید باتیں
جو جُمُعہ کے دن کلام کرے جبکہ امام خُطبہ دے رہا ہو تواس کی مثال اُس گدھے جیسی ہے جو بوجھ اٹھائے ہو اوراُس وقت جوکوئی اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ ’’ چپ رہو ‘‘ تواُسے جُمُعہ کا ثواب نہ ملے گا۔(1)
خطبہ سننا واجب ہے
جو چیزیں نَماز میں حرام ہیں مَثَلاً کھانا پینا، سلام و جواب وغیرہ یہ سب خُطبہ کی حالت میں بھی حرام ہیں یہاں تک کہ نیکی کی دعوت دینا بھی۔ہاں خطیب نیکی کی دعوت دے سکتا ہے۔ جب خُطبہ پڑھے تو تمام حاضِرین پر سننا اور چُپ رَہنا واجب ہے، جو لوگ امام سے دُور ہوں کہ خُطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچتی اُنہیں بھی چُپ رَہنا واجب ہے اگر کسی کو بُری بات کرتے دیکھیں تو ہاتھ یا سر کے اشا ر ے سے مَنع کر سکتے ہیں زَبان سے ناجائز ہے۔(2)
خطبہ سننے والا دُرُود شریف نہیں پڑھ سکتا
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نامِ پاک خطیب نے لیا تو دِل میں دُرُود شریف پڑھیں کیونکہ اس وقت زَبان سے پڑھنے کی اجازت نہیں ، یونہی صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے ذِکرِ پاک پر اُس وقت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم زَبان سے کہنے کی اجازت نہیں ۔(3)
خطبہ سے پہلے کا اعلان
آج کل علمِ دین سے دوری کا دَور ہے، لوگ دیگر عبادات کی طرح خُطبہ سُننے جیسی عظیم عبادت میں بھی غلطیاں کر کے کئی گناہوں کا اِرتکِاب کرتے ہیں ، لہٰذا مَدَنی التِجا ہے کہ ڈھیروں نیکیاں کمانے کیلئے ہر جُمُعہ کوخطیب قبل ازاذانِ خُطبہ منبر پر بیٹھنے سے پہلے یہ اعلان کرے:
________________________________
1 - مسندِ احمد ، ۱ / ۴۹۴، حدیث: ۲۰۳۳
2 - درمختار، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، ۳ / ۳۹
3 - المرجع السابق، ص ۴۰ ، ۴۱ ملتقطاً