Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
145 - 329
 (۴)نمازِ جمعہ کو جائے اور (۵) غلام آزاد کرے۔ ‘‘ (1)
شرائطِ جُمُعہ
جُمُعہ واجب ہونے کے لئے گیارہ شرطیں ہیں ، ان میں سے ایک بھی کم ہو تو فرض نہیں ، پھر بھی اگر کوئی پڑھ لے تو ہو جائے گا بلکہ عاقِل بالِغ مرد کے لئے جُمُعہ پڑھنا افضل ہے۔ نابالِغ نے جُمُعہ پڑھا تو نَفل ہے کہ اس پر نَماز فرض ہی نہیں۔(2)
 ’’ یاغوثَ الاعظم  ‘‘ کے 11 حُروف کی نسبت 
سے جمعہ کی ادائیگی فرض ہونے کی گیارہ شرائط 
(۱) شَہر میں مُقیم ہونا (۲) صِحّت یعنی مریض پر جُمُعہ  فرض نہیں مریض سے مُراد وہ ہے کہ جامع مسجد تک نہ جاسکتا ہو یا چلا توجائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھّاہو گا۔ شیخِ فانی(3)مریض کے حکم میں ہے (۳)آزاد ہونا ، غلام پر جُمُعہ فرض نہیں اوراُس کاآقا مَنع کرسکتاہے (۴) مرد ہونا(۵) بالِغ ہونا (۶) عاقِل ہونا۔یہ دونوں شرطیں یعنی عاقل و بالغ ہونا خاص جُمُعہ کے لیے نہیں بلکہ ہر عبادت کے واجب ہونے میں شَرط ہیں (۷) انکھیارا ہونا (۸) چلنے پر قادِر ہونا (٭)قَید میں نہ ہونا (۱۰)بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا(۱۱) بارش یا آندھی یا اَولے یا سردی کا نہ ہونا یعنی اِس قَدَر کہ ان سے نقصان کا خوفِ صحیح ہو۔ (4)  جن پر نَماز فرض ہے مگر کسی شَرعی عُذر کے سبب جُمُعہ فرض نہیں ، اُن کو جُمُعہ کے روز ظہر معاف نہیں ہے وہ تو پڑھنی ہی ہوگی۔



________________________________
1 -    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،   کتاب الصلاۃ،   باب صلوۃ الجمعۃ،   ۴ / ۱۹۱،   حدیث:  ۲۷۶۰
2 -    نماز کے احکام،   ص ۴۲۴
3 -    شیخِ فانی: وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتا جائے گا جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا (توشیخ فانی ہے)۔ (بہارِ شریعت،  اصطلاحات،    ۱ / ۵۵)
4 -    درمختار وردالمحتار،   کتاب الصلاۃ،   باب الجمعۃ،   مطلب فی شروط     الخ،   ۳ / ۳۰ تا ۳۳