Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
142 - 329
(5) جامع مسجد کی طرف جلدی جانا
جس قدر ممکن ہو جامع مسجد کی طرف جلد جانے کی کوشش کرے۔ چنانچہ، 
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے:   ’’ جب جُمُعہ کا دن آتا ہے تو مسجِد کے ہر دروازے پر فِرشتے آنے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں ، جلدی آنے والا اُس شخص کی طرح ہے جو اللہ تعالٰی کی راہ میں ایک اونٹ صَدَقہ کرتاہے اوراس کے بعد آنے والا اُس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صَدَقہ کرتاہے، اس کے بعد والا اُس شخص کی مِثل ہے جو مَینڈھا صَدَقہ کرے، پھر اِس کی مِثل ہے جو مُرغی صَدَقہ کرے، پھر اس کی مِثل ہے جو اَنڈا صَدَقہ کرے اور جب امام (خطبہ کے لیے) بیٹھ جاتا ہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اور آکر خُطبہ سنتے ہیں ۔ ‘‘  (1)
پہلی صَدی میں جمعہ کا جذبہ
حُجَّۃُ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :   ’’ پہلی صَدی میں سَحَری کے وقت اور فجر کے بعد راستوں کو لوگوں سے بھرا ہوا دیکھا جاتا تھا، وہ چَراغ لیے ہوئے (نمازِ جُمُعہ کیلئے) جامِع مسجِد کی طرف جاتے گویا عید کا دن ہو،حتّٰی کہ یہ سلسلہ خَتم ہوگیا۔ پس منقول ہے کہ اسلام میں جو پہلی بِدعت ظاہِر ہوئی وہ جامِع مسجِد کی طرف جلدی جانے کو چھوڑنا ہے۔(2)
(6) جامع مسجد میں ٹھہرنا
حُجَّۃُ الْاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :  (نَمازِ جُمُعہ کے بعد) عَصر کی نَماز پڑھنے تک مسجِد ہی میں رہے اور اگر نَمازِ مغرِب تک ٹھہر ے تو افضل ہے، منقول ہے 



________________________________
1 -    بخاری،   کتاب الجمعۃ،   باب الاستماع     الخ،   ۱ / ۳۱۹،    حدیث: ۹۲۹
2 -    احیاء العلوم،   کتاب اسرار الصلاۃ ومھماتھا،   الباب الخامس،   ۱ / ۲۴۶