’’ جو شخص جُمُعہ کے دن اپنے ناخُن کاٹتا ہے اللہ تعالٰی اُس سے بیماری نکال کر شِفا داخِل کر دیتا ہے۔ ‘‘ (1)
سوال …: حجامت بنوانے اور ناخن ترشوانے کا کام جمعہ سے پہلے کرنا چاہئے یا جمعہ کے بعد؟
جواب …: حجامت بنوانے اور ناخُن تَرشوانے کا کام جمعہ سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے مگر جُمُعہ کے بعد یہ کام کرنا افضل ہے۔(2)
(3) عمامہ شریف باندھنا
عمامہ شریف چاہئے تو یہ کہ ہر روز باندھا جائے مگر جمعہ کے دن بالخصوص عمامہ باندھنے کی فضیلت بھی مروی ہے۔ چنانچہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ رَحمت بُنیاد ہے: ’’ بے شک اللہ تعالٰی اور اس کے فرِشتے جُمُعہ کے دن عمامہ باندھنے والوں پر دُرُود بھیجتے ہیں ۔ ‘‘ (3)
(4) دُرودِ پاک کثرت سے پڑھنا
جمعہ کے دن دُرودِ پاک کثرت سے پڑھنا چاہئے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جمعہ کے دن مجھ پر دُرود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو دُرود پڑھتا ہے مجھ پر پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے۔ حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی اور کیا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد بھی؟ ارشاد فرمایا: ہاں اسکے بعد بھی! کیونکہ اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَى الْاَرْضِ اَنْ تَاْكُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِيَآءِ فَنَبِیُّ اللّٰهِ حَیٌّ يُّرْزَقُ۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے زمین پر انبیا کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے، اللہ کا نبی زندہ ہے، روزی دیا جاتا ہے۔(4)
________________________________
1 - المصنَّف لابن ابی شیبہ، کتاب الجمعۃ، باب فی تنقیۃ الاظفار الخ، ۲ / ۶۵، حدیث: ۲
2 - در مختار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ۹ / ۶۶۸
3 - مجمعُ الزوائد، کتاب الصلاۃ، باب اللباس للجمعۃ، ۲ / ۳۹۴، حدیث: ۳۰۷۵
4 - ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ و دفنہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۲ / ۲۹۱، حدیث: ۱۶۳۷