نمازِ جُمُعَہ
ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدَقے ہمیں جُمُعۃُ المبارَک کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ افسوس! ہم ناقَدرے جُمُعہ شریف کو بھی عام دنوں کی طرح غفلت میں گزار دیتے ہیں ۔ حالانکہ
٭… جُمُعہ یومِ عید ہے۔ ٭… جُمُعہ سب دنوں کا سردار ہے۔
٭… جُمُعہ کے روز جہنَّم کی آگ نہیں سُلگائی جاتی۔
٭… جُمُعہ کی رات دوزخ کے دروازے نہیں کھلتے۔
٭… جُمُعہ کوبروزِ قِیامت دلہن کی طرح اُٹھایا جائے گا۔
٭… جُمُعہ کے روز مرنے والا خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا اور عذابِ قَبْر سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
جُمُعہ سے مراد
سوال …: جمعہ سے کیا مراد ہے؟
جواب …: جمعہ کے متعلق بہت سے اقوال مروی ہیں ۔ چنانچہ مُفسّرِ شہیر، حکیم الامّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان جمعہ کو جمعہ کہنے کی وجوہات کچھ یوں نقل فرماتے ہیں :