جواب …: سجدہ سہو کا تعلق نماز سے ہے خواہ فرض ہویا سنت، وتر ہو یا نفل۔ کسی بھی نماز میں واجب ترک ہو جائے تو سجدۂ سَہْوْ واجب ہے۔
سجدہ سَہْوْ واجب ہونے کی چند صورتیں
سوال …: چند صورتیں بتائیے جن میں سجدہ سَہْوْ واجب ہوتا ہے۔
جواب …: سجدۂ سَہْوْ واجب ہونے کی چند صورتیں یہ ہیں :
٭…تَعدیلِ ارکان (مَثَلاً رُکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا یا دو سَجدوں کے درمیان ایک بار سبحٰن الله کہنے کی مقدار سیدھا بیٹھنا) بھول گئے سجدئہ سَہْو واجِب ہے۔ (1)
٭…دعائے قُنوت یا تکبیرِ قُنوت بھول گئے سجدئہ سَہْوْ واجِب ہے۔(2)
٭… قِراءت وغیرہ کسی موقع پر سوچنے میں تین مرتبہ سبحٰن الله کہنے کا وَقفہ گزر گیا سجدئہ سَہْو واجِب ہو گیا۔(3)
٭… رکوع و سجود و قعدہ میں قرآن پڑھا تو سجدہ واجب ہے۔(4)
٭… قعدۂ اُولیٰ میں تشہد کے بعد اتنا پڑھا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ تو سجدۂ سَہْوْ واجب ہے اس وجہ سے نہیں کہ درود شریف پڑھا بلکہ اس وجہ سے کہ فرض یعنی تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر ہوئی۔ (5)
٭… امام نے جہری نماز میں بقدرِ جوازِ نماز یعنی ایک آیت آہستہ پڑھی یا سرّی میں جہر سے تو سجدۂ سَہْوْ واجب ہے اور ایک کلمہ آہستہ یا جہر سے پڑھا تو معاف ہے۔(6)
________________________________
- 1 عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر، ۱ / ۱۲۷
- 2 عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر، ۱ / ۱۲۸
- 3 بہارِ شریعت، سجدہ سہو کا بیان، ۱ / ۷۱۵
- 4 ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ۲ / ۶۵۷
- 5 در مختار ، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ۲ / ۶۵۷
- 6 عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر، ۱ / ۱۲۸