سوال …: اگر کوئی فرض رہ جائے تو کیا سجدہ سَہْوْ سے اس کی بھی تلافی ہو جائے گی؟
جواب …: جی نہیں ! فرض ترک ہو جانے سے نَماز جاتی رَہتی ہے سجدئہ سَہْوْ سے اس کی تَلافی نہیں ہو سکتی، لہٰذا نماز دوبارہ پڑھنا ہو گی۔
سوال …: اگر سنّتیں یا مُسْتَحَبّات چھوٹ جائیں تو کیا اس صورت میں بھی سجدۂ سَہْوْ کر لینا چاہئے؟
جواب …: سنّتیں یا مُسْتَحَبّات مَثَلاً ثنا، تعوُّذ، تَسمِیہ، اٰمین، تکبیراتِ اِنْتِقالات اورتَسبیحات کے ترک سے سجدئہ سَہْوْ واجِب نہیں ہوتا، نَماز ہوجاتی ہے (لہٰذا اس صورت میں سجدۂ سَہْوْ نہ کریں )۔ (1) مگر دوبارہ پڑھ لینا مُسْتَحَب ہے بھول کر ترک کیا ہو یا جان بوجھ کر۔
سوال …: اگر ایک سے زائد واجبات ترک ہوئے ہوں تو کیا ہر ایک کے لیے الگ الگ سجدہ سَہْوْ کرنا ہو گا؟
جواب …: جی نہیں ! نَماز میں اگرچِہ تمام واجِب ترک ہوئے ، سَہْو کے دو ہی سَجدے سب کیلئے کافی ہیں ۔(2)
سوال …: اگر امام سے نماز میں کوئی واجب چھوٹ گیا تو کیا مقتدی پر بھی سجدہ سَہْوْ واجب ہے؟
جواب …: جی ہاں ! اگر اِمام سے سَہْو ہوا اور سَجدئہ سَہْوْ کیا تو مُقتدی پر بھی سجدہ واجِب ہے۔(3)
سوال …: اگرمُقتدی سے بحالتِ اقتِدا سَہْو واقع ہوا تو کیا اس پر سَجدئہ سَہْوْ واجِب ہے؟
جواب …: جی نہیں ! اگر مُقتدی سے بحالتِ اقتِدا سَہْو واقع ہوا تو اس پر سَجدئہ سَہْو واجب نہیں ۔ (4) اور نَماز لوٹانے کی بھی حاجت نہیں ۔
سوال …: کیا سجدہ سہو صرف فرض نماز میں واجب ہے یا دیگر نمازوں میں بھی واجب ہے؟
________________________________
- 1 فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ۱ / ۴۳۸
- 2 ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ۲ / ۶۵۵
- 3 در مختار ، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ۲ / ۶۵۸
- 4 عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الثانی عشر، ۱ / ۱۲۸