سَجْدَۂ سَھْوْ
سجدۂ سہو سے مراد
سوال …: سجدۂ سَہْوْ سے کیا مراد ہے؟
جواب …: واجِباتِ نَماز میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا فرائض و واجِباتِ نَماز میں بھولے سے تاخیر ہو جائے تو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سجدۂ سَہْوْ کیا جاتا ہے۔
سوال …: اگر کسی نے جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو کیا پھر بھی سجدۂ سَہْوْ سے تلافی ہو جائے گی؟
جواب …: جی نہیں ! اگر کسی نے جان بوجھ کر واجب ترک کیا تو سجدۂ سَہْوْ سے وہ نقصان پورا نہ ہو گا بلکہ اعادہ یعنی دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے۔
سجدۂ سَہْوْ کی شرعی حیثیت
سوال …: سجدئہ سہو کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب …: سجدئہ سہو واجِب ہے۔ (1)
سوال …: اگر کسی نے سجدۂ سَہْوْ واجِب ہونے کے باوُجُود نہ کیا تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: اگر کسی نے سجدئہ سَہْوْ واجِب ہونے کے باوُجُود نہ کیا تو نَماز لوٹانا واجب ہے۔
سوال …: کیا کوئی ایسا واجب بھی ہے جس کے رہ جانے کی صورت میں سجدہ سَہْوْ واجب نہیں ہوتا؟
جواب …: جی ہاں ! کوئی ایسا واجب رہ جائے جو واجباتِ نَماز سے نہ ہو تو سجدئہ سَہْوْ واجِب نہیں ہوتا مَثَلاً ترتیب سے قرآنِ پاک پڑھنا واجِب ہے مگر اس کا تعلُّق واجباتِ نَماز سے نہیں بلکہ واجباتِ تِلاوَت سے ہے، لہٰذا اگر کسی نے نماز میں خلافِ ترتیب قرآنِ کریم پڑھا مثلاً پہلے سورۂ ناس اور بعد میں سورۂ فلق تو اس سے سجدئہ سَہْوْ واجب نہ ہو گا۔
________________________________
- 1 در مختار ، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ۲ / ۶۵۵