Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
123 - 329
چنانچہ ایک حدیثِ پاک میں ہے:   ’’ جسے اندیشہ ہو کہ پچھلی رات ميں نہ اٹھے گا وہ اوّل وقت میں پڑھ لے اور جسے امید ہو کہ پچھلی رات کو اٹھے گا وہ پچھلی رات میں پڑھے کہ آخر شب کی نماز مشہود ہے (یعنی اُس میں ملائکۂ رحمت حاضر ہوتے ہیں ) اور یہ افضل ہے۔ ‘‘ (1)
سوال …:  	 کیا وتر باجماعت پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب …:  	 جی نہیں !  وتر باجماعت ادا کرنا منع ہے۔ البتہ!  رمضان شریف میں جماعت کے ساتھ وتر ادا کرنے کی رخصت ہے۔ 
وتر پڑھنے کا طریقہ
سوال …:  	 وتر کی کتنی رکعتیں ہیں اور اس کے پڑھنے کا طریقہ کیا ہے؟
جواب …:  	 نمازِ وتر تین رکعت ہے اور اس میں قعدۂ اُولیٰ واجب ہے۔ 
٭… وتر پڑھنے والا قعدۂ اُولیٰ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے، نہ درود پڑھے نہ سلام پھیرے جیسے مغرب میں کرتے ہیں اُسی طرح کرے۔ 
٭… وتر کی تینو ں رکعتوں میں مطلقاً قراءت فرض ہے اور ہر ایک میں بعد فاتحہ سورت ملانا واجب اور بہتر یہ ہے کہ پہلی میں 
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی یا اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُدوسری میں قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ، تیسری میں قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ پڑھے۔ کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے۔
٭… تیسری رکعت میں قراءت سے فارغ ہو کر رکوع سے پہلے کانوں کی لو تک ہاتھ اُٹھا کر اَللّٰهُ اَکْبَر  کہے جیسے تکبیر تحریمہ میں کرتے ہیں کہ یہ تکبیر کہنا بھی واجب ہے، پھر ہاتھ باندھ لے اور دُعائے قنوت پڑھے۔ 
٭… پھر رکوع کرے اور باقی نمازوں کی طرح آخری رکعت مکمل کر کے سلام پھیر دے۔ 



________________________________
 - 1   مسلم،   کتاب صلاۃ المسافرين،   باب من خاف ان لايقوم    الخ،    ص۳۸۰،   حديث: ۷۵۵