جواب …: جی ہاں ! اگر کوئی الگ الگ مساجد میں تراویح پڑھنا چاہتا ہو تو وہ ایسا کر سکتا ہے مگر اسے خیال رکھنا چاہئے کہ ختم قرآن میں نقصان نہ ہو۔ مثلاً تین مساجد ایسی ہیں کہ ان میں ہر روز سوا پارہ پڑھا جاتا ہے تو تینوں میں روزانہ بار ی باری جا سکتا ہے۔
سوال …: بعض لوگ امام کے رکوع میں پہنچنے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ، ان کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: جو لوگ امام کے رکوع میں پہنچنے کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں ، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ منافقین سے مشابہت ہے۔ چنانچہ سورۃ النسآء کی آیت نمبر 142 میں ہے:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲)
(پ۵، النسآء: ۱۴۲ )
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کو دکھاوا کرتے ہیں اور اللہکو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
لہٰذا کوئی عذر نہ ہو تو فرض کی جماعت میں بھی اگر امام رکوع سے اُٹھ گیا تو سجدوں وغیرہ میں فوراً شریک ہوجائیں ، نیز امام قعدۂ اولیٰ میں ہو تب بھی اس کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کریں بلکہ شامل ہو جائیں ۔ اگر قعدہ میں شامل ہوگئے اور امام کھڑا ہوگیا تو التحیات (شروع کر دینے کی صورت میں ) پوری کئے بغیر کھڑے نہ ہوں ۔
سوال …: کیا عشا کے فرض ایک امام کے پیچھے اور تراویح دوسرے امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہیں ؟
جواب …: جی ہاں ! نہ صرف یہ کر سکتے ہیں بلکہ ایک امام کے پیچھے فرض، دوسرے کے پیچھے تراویح اور تیسرے کے پیچھے وتر پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرض و وتر کی جماعت کرواتے تھے اور حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تراویح پڑھاتے۔ (1)
٭…٭…٭
________________________________
- 1 عالمگیری، كتاب الصلاة، الباب التاسع، فصل فی التراويح، ۱ / ۱۱۶ ماخوذاً