کروانے سے متعلّق جب اِسْتِفتا پیش ہوا تو جواباً ارشاد فرمایا: تلاوتِ قرآن و ذکر الٰہی پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے۔ لینے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں اور جب یہ فِعلِ حرام کے مُرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اَموات (یعنی مرنے والوں ) کو بھیجیں گے؟ گناہ پر ثواب کی اُمید اور زیادہ سخت واَشَد (یعنی شدید ترین جُرم) ہے۔ (1)
سوال …: اگر تراویح پڑھانے کی اُجرت طے نہ کی جائے اور لوگ یا انتظامیہ کچھ خدمت وغیرہ کریں تو کیا یہ لینا جائز ہے؟
جواب …: اگر تراویح پڑھانے کی اُجرت طے نہ کی جائے اور لوگ یا انتظامیہ کچھ خدمت وغیرہ کریں تو یہ لینا جائز نہیں ، کیونکہ طے کرنے ہی کو اُجرت نہیں کہتے بلکہ اگر یہاں تراویح پڑھانے اِسی لئے آتے ہیں کہ معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگرچِہ طے نہ ہوا ہو تو یہ بھی اُجرت ہی ہے۔ (لہٰذایہ ناجائز و حرام ہے نیز) اُجرت رقم ہی کا نام نہیں بلکہ کپڑے یا غلّہ وغیرہ کی صورت میں بھی اُجرت،اُجرت ہی ہے۔ہاں اگر حافِظ صاحِب اصلا حِ نیّت کے سا تھ صاف صاف کہہ دیں کہ میں کچھ نہیں لوں گا یا پڑھوانے والا کہہ دے، نہیں دوں گا۔ پھر بعد میں حافِظ صاحِب کی خدمت کردیں تو حرج نہیں کہ اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔(2)
سوال …: اگر حافظ اُجرت نہ لے مگر اپنی تیزی دکھانے، خوش آوازی کی داد پانے اور نام چمکانے کیلئے قرآنِ پاک پڑھے تو کیا اسے ثواب ملے گا؟
جواب …: اگر حافظ اُجرت نہ لے مگر اپنی تیزی دکھانے، خوش آوازی کی داد پانے اور نام چمکانے کیلئے قرآنِ پاک پڑھے تو ثواب تو دُور کی بات ہے، اُلٹا حبِّ جاہ اور ریاکاری کی تباہ کاری میں جا پڑے گا، لہٰذا پڑھنے پڑھانے والوں کو اپنے اندر اِخلاص پیدا کرنا ضَروری ہے۔
متفرق مسائل
سوال …: اگر کوئی الگ الگ مساجد میں تراویح پڑھے تو کیا اس کا ایسا کرنا درست ہے؟
________________________________
- 1 فتاویٰ رضویہ، ۲۳ / ۵۳۷
- 2 فيضانِ سنت، فيضانِ تراويح، ۱ / ۱۰۹۹