جواب …: اگر کسی آیت میں کوئی حَرف چَب گیا یا اپنے مخرج سے نہ نکلا تو لوگوں سے شرمائے بِغیرپلٹ پڑیئے اور دُرُست پڑھ کر پھر آگے بڑھئے۔
غلطی ہو جانے یا بھول جانے کی صورتیں
سوال …: اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
جواب …: اگر کسی وجہ سے تراویح کی نماز فاسد ہو جائے تو جتنا قرآنِ پاک ان رکعتوں میں پڑھا تھا دوبارہ پڑھیں تاکہ ختم میں نقصان نہ رہے۔
سوال …: اگر امام غلطی سے کوئی آیت یا سورۃ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو کیا کرے؟
جواب …: اگر امام غلطی سے کوئی آیت یا سورۃ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا تو مستحب یہ ہے کہ (یاد آنے پر پہلے) اسے پڑھ کر پھر آگے بڑھے۔ (1)
سوال …: تراویح میں دو رکعت کے بعد بیٹھنا بھول گیا تو کیا کرے؟
جواب …: دو رکعت پر بیٹھنا بھول گیا تو اسے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہئے:
٭… جب تک تیسر ی کا سجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے آخر میں سجدۂ سَہْوْ کر لے۔
٭… اگر تیسری کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کر لے مگر یہ دو شمار ہوں گی۔ ہاں اگر پہلی دو کے بعد قعدہ کیا تھا تو چار ہوئیں ۔
٭… تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا، اگر دوسری پر بیٹھا نہیں تھا تو نہ ہوئیں ان کے بدلے کی دو رکعتیں دو بارہ پڑھے۔
سوال …: تراویح میں اگر کوئی رکعات کی تعداد بھول جائے تو کیا کرے؟
جواب …: تراویح میں اگر رکعات کی تعداد بھول جائے تو درج ذیل صورتوں پر عمل کرے:
٭… سلام پھیرنے کے بعد کوئی کہتا ہے دو ہوئیں ، کوئی کہتا ہے تین، تو ا مام کو جو یاد ہو اس کا اعتبار ہے، اگر امام خود بھی تذبذب کا شکار ہو تو جس پر اعتماد ہو اس کی بات مان لے۔
________________________________
- 1 عالمگیری، كتاب الصلاة، الباب التاسع، فصل فی التراويح، ۱ / ۱۱۸