جواب …: اگر ستائیسویں کو یا اس سے قبل قرآنِ پاک ختم ہوگیا تب بھی آخر رمضان تک تراویح پڑھتے رہیں کہ سنتِ مؤکدہ ہے۔ (1)
تراویح میں قراءتِ قرآن
سوال …: تراویح میں قرآنِ مجید جلدی جلدی پڑھنا چاہئے یا آہستہ آہستہ؟
جواب …: تراویح میں قرآنِ مجید جلدی جلدی نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ ترتیل کے ساتھ یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: فر ضو ں میں ٹھہر ٹھہر کر قِرا ء َت کرے اور تراویح میں متوسِّط (یعنی درمیانہ) انداز پر اور رات کے نوافِل میں جلد پڑھنے کی اجازت ہے، مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم ”مَدّ“ کا جو دَرَجہ قارِیوں نے رکھا ہے اُس کو ادا کرے ورنہ حرام ہے۔ اس لئے کہ تَرتیل سے (یعنی خوب ٹھہر ٹھہر کر) قرآن پڑھنے کا حُکُم ہے ۔(2)
سوال …: آج کل کے بہت تیز پڑھنے والے حفاظ کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: آج کل کے اکثر حفاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کسی لفظ کا پتا نہیں چلتا، حروف بھی صحیح طرح ادا نہیں ہوتے، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر فخر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے، حالانکہ اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے۔
سوال …: اگرجلدی جلدی پڑھنے میں حافِظ صاحِب قرآنِ مجیدمیں سے کچھ الفاظ چبا گئے تو کیا خَتمِ قرآن کی سنّت ادا ہو گی؟
جواب …: اگرجلدی جلدی پڑھنے میں حافِظ صاحِب پورے قرآنِ مجیدمیں سے صِرف ایک حَرف بھی چبا گئے تو خَتمِ قرآن کی سنّت ادا نہ ہو گی۔
سوال …: اگر کسی آیت میں کوئی حَرف چَب گیا یا اپنے مخرج سے نہ نکلا تو اب کیا کرنا چاہئے؟
________________________________
- 1 عالمگیری، كتاب الصلاة، الباب التاسع، فصل فی التراويح، ۱ / ۱۱۸
- 2 در مختار و ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، فصل فی القراء ۃ، مطلب: السنۃ تکون سنۃ الخ، ۲ / ۳۲