ترجمہ: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس دعوۃِتامہ اور صلوٰۃِ قائمہ کے مالک تو ہمارے سردار محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وسیلہ اور فضیلت اور بہت بلند درجہ عطا فرما اور ان کو مقامِ محمود میں کھڑا کر جس کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت نصیب فرما، بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔
٭…٭…٭
اقامت کا بیان
سوال …: اقامت کسے کہتے ہیں ؟
جواب …: جماعت قائم ہونے سے پہلے جلدی جلدی ہلکی آواز سے اذان کے الفاظ پڑھنے کو اقامت یا تکبیر کہتے ہیں ۔
سوال …: اذان واقامت میں کیا فرق ہے؟
جواب …: اذان اور اقامت میں تھوڑا سا فرق ہے اور وہ یہ ہے:
٭… اذان میں کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں رکھتے ہیں جبکہ اقامت میں ایسا نہیں کرتے۔
٭… اذان عام طور پر بلند جگہ اور مسجد سے باہر کہی جاتی ہے جبکہ اقامت مسجد میں امام کی پچھلی صف میں دائیں یا بائیں کھڑے ہو کر کہی جاتی ہے۔
٭… اذان اور نماز کے درمیان کافی وقت ہوتا ہے جبکہ اقامت کے فوراً بعد نماز شروع ہو جاتی ہے۔
٭… پانچوں وقت صرف اقامت میں حَیَّ عَلَی الْـفَلَاح کے بعد دو بار قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ (یعنی نماز قائم ہو چکی) کہا جاتا ہے۔
سوال …: اقامت کا جواب کس طرح دیا جائے؟
جواب …: اس کا جواب بھی اسی طرح ہے جیسے اذان کا ، ہاں اس میں قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ کے جواب میں یہ کلمہ کہے: اَقَامَھَا اللّٰهُ وَاَدَامَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ۔ یعنی اللہ اس کو قائم اور ہمیشہ رکھے جب تک کہ آسمان و زمین ہیں ۔
٭…٭…٭