تیمّم
سوال …: تیمم کیا ہے؟
جواب …: تیمم اصل میں وُضو اور غُسل کا بدل ہے، یعنی جس کا وُضو نہ ہو یا نہانے کی ضرورت ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو تو وہ وُضو اور غُسل کی جگہ تیمم کر سکتا ہے۔
سوال …: کیا وُضو اور غُسل کے تیمم میں کوئی فرق ہے؟
جواب …: جی نہیں ! وضو اور غُسل کے تیمم میں کوئی فرق نہیں ۔
سوال …: اگر کسی پر غُسل فرض ہو تو کیا وہ غسل کا تیمم کر کے نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے یا نماز کے لیے الگ سے وُضو کا تیمم کرنا ضروری ہے؟
جواب …: جی ہاں ! اگر کسی پر غسل فرض ہو تو وہ تیمم کر کے نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے اور اس کے لیے یہ ضروری نہیں کہ غُسل اور وُضو دونوں کے لیے دوتیمم کرے بلکہ ایک ہی میں دونوں کی نیت کرلے دونوں ہو جائیں گے اور اگر صرف غُسل یا وُضو کی نیت کی جب بھی کافی ہے۔
سوال …: کیا تیمم کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی ہے؟
جواب …: جی ہاں ! تیمم کا ذکر پارہ 6سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 6میں کچھ یوں آیا ہے:
وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآىٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُؕ-ؕ(پ۶، المائدۃ: ۶)
ترجَمۂ کنزالایمان: اور اگر تم بیمار یا سفر میں ہو یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا یا تم نے عورتوں سے صحبت کی اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمّم کرو تو اپنے منھ اور ہاتھوں کا اس سے مسح کرو ۔