بہتی رہے ہر وقت جو سرکار کے غم میں
روتی ہوئی وہ آنکھ مجھے میرے خدا دے
ایمان پہ دے موت مدینے کی گلی میں
مدفن مرا محبوب کے قدموں میں بنا دے
ہو بہرِ ضیا نظر کرم سوئے گناہگار
جنت میں پڑوسی مجھے آقا کا بنا دے
دیتا ہوں تجھے واسطہ میں پیارے نبی کا
اُمت کو خدایا رہِ سنت پہ چلا دے
عطار سے محبوب کی سنت کی لے خدمت
ڈنکا یہ ترے دین کا دنیا میں بجا دے
اللہ ملے حج کی اسی سال سعادت
عطّارؔ کو پھر روضۂ محبوب دکھا دے
٭…٭…٭
اپنے علم پر عمل کی برکت
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خُوشبُودار ہے: مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَثَہُ اللہُ عِلْمَ مَا لَمْ یَعْلَمْ جس نے اپنے علم پر عمل کیا اللہ عزوجل اسے ایسا علم عطا فرمائے گا جو وہ پہلے نہ جانتا تھا۔ (حلیۃ الاولیاء، الرقم ۴۵۵احمد بن ابی الحواری، الحدیث ۱۴۳۲۰، ج ۱۰، ص۱۳)