منقبت غوثِ اعظم
یا غوث ! بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ
بغداد بلا کر مجھے جلوہ بھی دکھاؤ
دنیا کی محبت سے مری جان چھڑاؤ
دیوانہ مجھے شاہِ مدینہ کا بناؤ
چمکا دو ستارہ مری تقدیر کا مُرشِد
مدفن کو مدینے میں جگہ مجھ کو دلاؤ
نیّا مری منجدھار میں سرکار پھنسی ہے
امداد کو آؤ مری امداد کو آؤ