نعت شریف
قسمت میری چمکائیے
قسمت میری چمکائیے چمکائیے آقا مجھ کو بھی درِ پاک پہ بلوائیے آقا
سینے میں ہو کعبہ تو بسے دل میں مدینہ آنکھوں میں میری آپ سما جائیے آقا
بے تاب ہوں بے چین ہوں دیدار کی خاطر تڑپائیں نہ اب خواب میں آجائیے آقا
ہر سمت سے آفات و بلیات نے گھیرا مجبور کی امداد کو اب آئیے آقا
سکرات کا عالَم ہے شہا دم ہے لبوں پر تشریف سرہانے مرے اب لائیے آقا
وحشت ہے اندھیرا ہے میری قبر کے اندر آکر ذرا روشن اسے فرمائیے آقا
مجرم کو لیے جاتے ہیں اب سوئے جہنم لِلّٰہ ! شفاعت مری فرمائیے آقا
عطّارؔ پر ہو بہرِ رضا اتنی عنایت
ویرانۂ دل آکے بسا جائیے آقا
٭…٭…٭