Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
81 - 99
شرمی کی باتوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ آخرت میں ہم نجات پا جائیں ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے،  فرماتے ہیں :  میں بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ نجات کیا ہے؟  ارشاد فرمایا:  اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لئے گنجائش رکھے  (یعنی بے کار ادھر ادھر نہ جاؤ)  اور اپنی خطا پر رویا کرو۔  (1) 
پیارے مدنی منو! آئیے اب گالی دینے کی شرعی حیثیت کے متعلق کچھ جانتے ہیں :  
سوال:      اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک گالیاں دینے والے کی کیا حیثیت ہے؟ 
جواب:      اللہ عَزَّ وَجَلَّ  گالیاں دینے والے کو ناپسند فرماتاہے اور اپنا دشمن جانتاہے ۔
سوال:    سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے گالی دینے والے کے بارے میں کیا ارشاد فرمایاہے؟ 
جواب:      سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے ارشاد فرمایا:   ’’ فحش گوئی  (یعنی گالی گلوچ و بے ہودہ باتیں )  کرنے والے پر جنت حرام ہے۔ ‘‘ (2) 
سوال:    بزرگانِ دین کو جب کوئی گالی دیتا تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے؟ 
جواب:       بزرگانِ دین کو جب کوئی گالیاں دیتا تو وہ غصہ نہ کرتے بلکہ اس کے لئے دعائے خیر فرماتے اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرتے۔
	پیارے مدنی منو! بد قسمتی سے آج کل ہمارا معاملہ بالکل الٹ نظرآتاہے آج اگر ہمیں کوئی برا بھلا کہہ دے تو ہم غصے سے لال پیلے ہو جاتے ہیں اور خوب اَول فول بکتے ہیں بلکہ بسا اوقات نوبت لڑائی جھگڑے تک جا پہنچتی ہے۔ اے کاش! ان بزرگانِ دین کے طفیل ہم سراپا اخلاق 



________________________________
 - 1   سنن الترمذی،  کتاب الزهد،  باب ما جاء في حفظ اللسان،  الحديث: ۲۴۱۴،  ج۴،  ص۱۸۲
 - 2   موسوعة الامام ابن ابي الدنيا،  الصمت واداب اللسان،  الحديث: ۳۲۵،  ج۷،   ص۲۰۴