حضرت سیدنا بشر حافی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی نہایت کم گفتگو کرتے اور اپنے دوستوں کو فرماتے: تم غور کرو کہ اپنے اعمال ناموں میں کیا لکھوا رہے ہو؟ کیونکہ وہ تمہارے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے پیش ہوں گے تو جو شخص بری باتیں کرتاہے اس پر افسوس ہے۔ اگر اپنے دوست کو کچھ لکھواتے ہوئے کبھی اس میں برے الفاظ لکھواؤ تو یہ اس کے ساتھ تمہاری بے حیائی تصور ہوگی پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ تمہارا کیا برتاؤ ہے؟
پیارے مدنی منو! گالیاں دیتے وقت ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے معصوم فرشتے ہماری ہر بات لکھ رہے ہیں تو جب ہماری زبان سے نکلی ہوئی گالیاں اور بے شرمی و بے حیائی کی باتیں انہیں لکھنا پڑتی ہوں گی تو انہیں کس قدر تکلیف ہوتی ہو گی جیسا کہ حضرت سیدنا امام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ انسان پر تعجب ہے کہ کراماً کاتبین اس کے پاس ہیں اور اس کی زبان ان کا قلم اور اس کا لعاب ان کی سیاہی ہے، پھر بھی بے ہودہ کلام کرتا ہے۔ (1)
پیارے مدنی منو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قہر وغضب سے ہردم پناہ مانگتے رہئے اور ایسی باتوں سے مکمل پرہیز کیجئے جن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتا ہے۔ ہمیشہ اچھی اچھی باتیں کیجئے کیونکہ مدینے کے تاجدار، شافع ِ روزِ شمار، نبیوں کے سردار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ خوشبو دار ہے: ’’ بلاشبہ بندہ کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پسند کا کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے کہ جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے بہت سے درجات بلند فرما دیتا ہے اور بلا شبہ بندہ کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ گزرتا ہے کہ اس کی طرف اس کو دھیان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے دوزخ میں گرتا چلا جاتاہے۔ ‘‘ (2)
پیارے مدنی منو! ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے، گالی گلوچ، بے حیائی وبے
________________________________
- 1 تنبيه المغترين، الباب الثالث، ص۱۹۰
- 2 مشكاة المصابيح، كتاب الادب، الحديث: ۴۸۱۳، ج۲، ص۱۸۹