Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
79 - 99
گالی دینے کی سزا
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتاہے : 
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ (۱)  الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ (۳)   (پ۱۸،  المومنون: ۱ تا ۳) 
تر جمہ ٔ کنز الایمان:  بے شک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے ۔
	پیارے مدنی منو! دیکھاآپ نے ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ اچھی باتیں کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور بری باتیں کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا،  مگر بد قسمتی سے آج کل گالی گلوچ اور گندی باتیں بہت زیادہ عام ہو چکی ہیں ،  بچہ ہو یا بڑا،  مرد ہو یا عورت اس بری عادت میں مبتلا نظر آتا ہے۔ بلکہ اب تو گالیاں دینا لوگوں کا تکیہ کلام بن گیا ہے کہ بات بات پر گالی دی جاتی ہے اور آہ! اب تو لوگوں کے ضمیر اس قدر مردہ ہوچکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے ہنستے ہیں اور اسی طرح غصہ کے وقت بھی گالی گلوچ کرنا عام ہو گیا ہے۔ یعنی اب تو وہ دَور آگیا کہ ہنسی مذاق میں بھی گالیاں بکی جاتی ہیں اور غصہ کے وقت بھی۔
	پیارے مدنی منو! گالی دینا بہت بری بات ہے کیا آپ میں سے کوئی یہ جراءت کرے گا کہ اپنے پیر ،  استاد  یا والد یا کسی معزز شخص کے سامنے گالی بکے،  ہرگز نہیں ! تو ذرا سوچئے کہ ہمارا معزز ترین پروردگار عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں ہر آن دیکھ رہا ہے اور ہماری باتیں بھی سن رہا ہے بلکہ وہ تو ہم سے ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو پھر گالیاں بکنے اور گندی باتیں کرتے وقت ہمیں یہ احساس کیوں نہیں رہتا۔ چنانچہ،