Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
76 - 99
 بھی اس کم سن لڑکے کے پاس سے گزرتے ہوئے پوچھا تو اسے بھی کم سن لڑکے نے یہی جواب دیا کہ میرے پاس چالیس دینار ہیں۔ جب یہ دونوں ڈاکو اپنے سردار کے پاس گئے تو اسے بتایا کہ قافلہ میں ایک ایسا نڈر کم سن لڑکا ہے جو اس حال میں بھی مذاق کر رہا ہے۔ 
	سردار نے کم سن لڑکے کو بلانے کا کہا،  وہ آیا تو اس نے پوچھنے پر اب بھی وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا۔ سردار نے تلاشی لی تو واقعی چالیس دینار مل گئے۔ کم سن لڑکے کے اس سچ بولنے پر سب حیران ہوئے اور اس سے سچ بولنے کا سبب پوچھا تو کم سن لڑکے نے جواب دیا کہ میری ماں نے گھر سے نکلتے ہوئے وعدہ لیا تھا کہ ہمیشہ اور ہر حال میں سچ بولنا،  کبھی جھوٹ نہ بولنا اور میں اپنی ماں سے کئے ہوئے وعدے کو نہیں توڑ سکتا۔ ڈاکوؤں کا سردار کم سن لڑکے کی یہ بات سن کر رونے لگا اور کہنے لگا:  ہائے افسوس! صد افسوس! یہ کم سن لڑکا اپنی ماں سے کیا ہوا وعدہ اس طرح پورا کر رہا ہے اور ایک میں ہوں کہ کئی سالوں سے اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ  سے کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی کر رہا ہوں ۔پس اس سردار نے روتے ہوئے راہِ خدا کے اس ننھے مسافر کے ہاتھ پر توبہ کر لی اور اس کے باقی ساتھی بھی یہ کہتے  ہوئے تائب ہو گئے کہ اے سردار! جب برائی کی راہ پر تو ہمارا سردار تھا تو اب نیکی کی راہ پر بھی تو ہی ہمارا رہنما ہو گا۔  (1) 
	پیارے مدنی منو! کیا آپ جانتے ہیں کہ راہِ خدا کا یہ ننھا مسافر کون تھا؟  یہ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے پیارے پیارے مرشد،  حضور غوثِ پاک،  شیخ سید عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی تھے۔ جنہوں نے ابھی راہِ خدا میں سفر کا آغاز ہی کیا تھا کہ اس ننھی سی عمر میں



________________________________
 - 1   بھجۃالاسرار،  ذکر طریقہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، ص۱۶۷