Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
73 - 99
پھر اس کی لاش کو بادشاہ کے پاس بھجوادیا گیا۔ 
	اِدھر دوسرے دن وہ نیک شخص حسبِ معمول دربار میں گیا اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر وہی کلمات دہرائے کہ  ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔ ‘‘ جب بادشاہ نے اسے صحیح و سالم دیکھا تو پوچھا:  میں نے تجھے جوخط دیا تھا اس کا کیا ہوا؟  اس نے جواب دیا:  میں آپ کا خط لے کر گورنر کے پاس جارہا تھا کہ راستے میں مجھے فلاں شخص ملا اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ خط مجھے دے دو۔ میں نے اسے وہ خط دے دیا اور وہ لے کر گورنر کے پاس چلا گیا۔ بادشاہ نے کہا:  اس شخص نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا تھا کہ تم میرے متعلق یہ گمان رکھتے ہو کہ میرے منہ سے بدبو آتی ہے،  کیا واقعی ایسا ہے؟   اس شخص نے کہا:  بادشاہ سلامت! میں نے کبھی بھی آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچا۔ تو بادشاہ نے پوچھا:  جب میں نے تجھے اپنے قریب بلایا تھا تو تونے اپنے منہ پر ہاتھ کیوں رکھ لیا تھا؟  اس نے جواب دیا:  بادشاہ سلامت! آپ کے دربار میں آنے سے کچھ دیر پہلے اس شخص نے میری دعوت کی تھی اور کھانے میں مجھے بہت زیادہ لہسن کھلا دیا تھا جس کی وجہ سے میرا منہ بدبو دار ہو گیا جب آپ نے مجھے اپنے قریب بلایا تو میں نے یہ گوارا نہ کیا کہ میرے منہ کی بدبو سے بادشاہ سلامت کو تکلیف پہنچے،  اسی لئے میں نے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا۔ 
	جب بادشاہ نے یہ سنا تو کہا:  اے خوش نصیب! تو نے بالکل ٹھیک کہا تیری یہ بات بالکل سچی ہے کہ جو کسی کے ساتھ برائی کرتاہے اسے عنقریب اسکی برائی کا بدلہ مل جائے گا۔ اس شخص نے تیرے ساتھ برائی کا ارادہ کیا اور جھوٹ بولا اور تجھے سزا دلوانا چاہی لیکن اسے اپنے جھوٹ بولنے کا صلہ خود ہی مل گیا۔ سچ ہے کہ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتاہے وہ خود ہی اس میں جا