بہرحال وہ شخص خط لے کر دربار سے نکلا تو وہ حاسد راہ میں منتظر تھا کہ دیکھو کیا ہوتاہے جب اسے آتا دیکھا تو پوچھا کہ کیاہوا ؟ کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا میں نے بادشاہ کو اپنا کلام سنایا تو اس نے مجھے ایک خط مہر لگاکر دیا اور کہا کہ فلاں گورنر کے پاس یہ خط لے جاؤ اب میں اسی گورنر کے پاس جا رہا ہوں ۔ حاسد کہنے لگا: بھائی! یہ خط مجھے دے دو میں اسے گورنر تک پہنچا دوں گا۔ چنانچہ، اس شریف آدمی نے وہ خط حاسد کے حوالہ کر دیا۔ حاسد خط لے کر خوشی خوشی گورنر کے دربار کی طرف چل پڑا اور راستے میں سوچتا جارہا تھا کہ میری قسمت کتنی اچھی ہے کہ میں نے اس شخص کو بے وقوف بنا کر انعام والاخط لے لیا اب مجھے ہی انعام واکرام سے نوازا جائے گااور میں مالامال ہوجاؤں گا۔انہی سوچوں میں گم حاسد جھومتاجھومتا آگے بڑھ رہا تھا لیکن وہ نہیں جانتاتھا کہ وہ اپنے عبرت ناک انجام کی طرف بڑھ رہاہے۔
جب وہ گورنر کے پاس پہنچا اور بڑے مؤدبانہ انداز میں بادشاہ کا خط گورنر کو دیا اور گورنر نے جیسے ہی خط پڑھا تو پوچھا: اے شخص! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس خط میں بادشاہ نے کیا لکھا ہے؟ اس نے کہا: جناب! یہی لکھا ہوگا کہ مجھے انعام واکرام سے نوازا جائے۔ گورنر نے کہا: اے نادان شخص! اس خط میں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جیسے ہی تم پہنچو میں تمہیں ذبح کر کے تمہاری کھال میں بھوسا بھر کر تمہاری لاش بادشاہ کی طرف روانہ کر دوں ۔ یہ سن کر حاسد کے ہوش اڑ گئے اور وہ کہنے لگا: خدا کی قسم! یہ خط میرے بارے میں نہیں لکھا گیا بلکہ یہ تو فلاں شخص کے متعلق ہے، بے شک آپ بادشاہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر معلوم کر لیں ۔ گورنر نے اس کی ایک نہ سنی اور کہا: ہمیں کوئی حاجت نہیں کہ ہم بادشاہ سے اس معاملہ کی تصدیق کریں ، بادشاہ کی مہر اس خط پر موجود ہے، لہٰذا ہمیں بادشاہ کے حکم پر عمل کرنا ہی ہو گا۔ اتنا کہنے کے بعد اس نے جلاد کو حکم دیا کہ اس (حاسد) کو ذبح کرکے اس کی کھال اتار لو اور اس میں بھوسا بھردو۔