پس وہ حاسد دربارِ شاہی سے چلا آیا اور اس شخص کے پاس پہنچا اور اسے کھانے کی دعوت دی۔ اُس نے قبول کر لی اور اس کے ساتھ چل دیا۔ حاسد نے اسے جو کھانا کھلایا اس میں بہت زیادہ لہسن ڈال دیا۔ اب اس شخص کے منہ سے لہسن کی بدبو آنے لگی۔ بہرحال وہ دعوت سے فارغ ہوکر اپنے گھر آ گیا۔ ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ بادشاہ کا قاصد آیا اور اس نے کہا کہ بادشاہ نے آپ کو ابھی دربار میں بلایا ہے۔ وہ قاصد کے ساتھ دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے اسے اپنے سامنے بٹھایا اور کہا ہمیں وہی کلمات سناؤ جو تم سنایا کرتے ہو۔ اس نے کہا: ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔‘‘جب اس نے اپنی بات مکمل کر لی تو بادشاہ نے کہا میرے قریب آؤ۔ وہ بادشاہ کے قریب گیا تو اس نے فوراً اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیاتاکہ لہسن کی بدبو سے بادشاہ کو تکلیف نہ ہو۔ جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اپنے دل میں کہا کہ اس شخص نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ میرے بارے میں یہ شخص گمان رکھتا ہے کہ مجھے گندہ دہنی کی بیماری ہے۔بادشاہ اس شخص کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوگیا اور بلاتحقیق فیصلہ کرلیا کہ اس شخص کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ چنانچہ اس نے اپنے گورنر کے نام اس طرح خط لکھا: اے گورنر! جیسے ہی یہ شخص تمہارے پاس میرا خط لے کر پہنچے اسے ذبح کردینا اور اس کی کھال میں بھوسا بھرکے میرے پاس بجھوادینا۔ پھر بادشاہ نے خط پر مہر لگائی اور اس شخص کو دیتے ہوئے کہا یہ خط لے کر فلاں علاقے کے گورنر کے پاس جاؤ۔
اس بادشاہ کی یہ عادت تھی کہ جب بھی وہ کسی کو کوئی بڑا انعام دینا چاہتا تو کسی گورنر کے نام خط لکھتااور اس شخص کو گورنر کے پاس بھیج دیتا وہاں اسے خوب انعام واکرام سے نوازا جاتا۔ کبھی بھی بادشاہ نے سزا کے لئے کسی کو خط نہیں لکھا تھا۔ آج پہلی بار بادشاہ نے کسی کو سزا دینے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا۔