جھوٹ کے مزید نقصانات ملاحظہ کیجئے:
حضرت سیدنا بکر بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ بادشاہوں کے درباروں میں جاتا اور ان کے سامنے اچھی اچھی باتیں کرتا، بادشاہ خوش ہوکر اسے انعام واکرام سے نوازتے اور اس کی خوب حوصلہ افزائی کرتے۔
ایک مرتبہ وہ ایک بادشاہ کے دربار میں گیا اور اس سے اجازت چاہی کہ میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ بادشاہ نے اجازت دی اور اسے اپنے سامنے کرسی پر بٹھا دیا اور کہا اب جو کہنا چاہتے ہو کہو۔ اس شخص نے کہاـ: ’’ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کر اور جو برائی کرے اس کی برائی کا بدلہ اسے خود ہی مل جائے گا۔ ‘‘ بادشاہ اس کی یہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور اسے انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے ایک درباری کو اس شخص سے حسد ہو گیا اور دل ہی دل میں کڑھنے لگا کہ اس عام سے شخص کو بادشاہ کے دربار میں اتنی عزت اور اتنا مقام کیوں حاصل ہو گیا۔ بالآخر وہ حسد کی بیماری سے مجبور ہوکر بادشاہ کے پاس گیا اور بڑے خوشامدانہ انداز میں جھوٹ بولتے ہوئے کہا: ’’ بادشاہ سلامت ! ابھی جو شخص آپ کے سامنے گفتگو کر کے گیا ہے اگرچہ اس کی باتیں اچھی ہیں لیکن وہ آپ سے نفرت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بادشاہ کو گندہ دَہنی (یعنی منہ سے بدبو آنے) کا مرض لاحق ہے۔ ‘‘ بادشاہ نے یہ سن کر پوچھا: تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ میرے بارے میں ایسا گمان رکھتا ہے؟ وہ حاسد بولا: حضور! اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ آزما کر دیکھ لیں اسے اپنے پاس بلائیں جب وہ آپ کے قریب آئے گا تو اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ اسے آپ کے منہ کی بدبو نہ آئے۔ یہ سن کر بادشاہ نے کہا: تم جاؤ جب تک میں اس معاملہ کی خود تحقیق نہ کر لوں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔