Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
69 - 99
	پس ان میں سے ایک آدمی شہر پہنچا،  کھانا خرید کر واپس ہونے لگا تو اس نے سوچا:  بہتر یہ ہے کہ کھانے میں زہر ملا دوں تا کہ وہ دونوں کھا کر مر جائیں اور سارا سونا میں ہی لے لوں ۔ یہ سوچ کر اس نے زہر خرید کر کھانے میں ملا دیا۔ ادھر ان دونوں نے یہ سازش کی کہ جیسے ہی وہ کھانا لے کر آئے گا ہم دونوں مل کر اس کو مار ڈالیں گے اور پھر سارا سونا آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔ چنانچہ جب وہ شخص کھانا لیکر آیا تو دونوں اس پر پل پڑے اور اس کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد خوشی خوشی کھانا کھانے کے لئے بیٹھے تو زہر نے اپنا کام کر دکھایا اور یہ دونوں بھی تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہو گئے اور سونا جوں کا توں پڑا رہا۔ 
	کچھ عرصے کے بعد حضرت سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  کا واپسی میں وہاں سے گزر ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ سونا وہیں موجود ہے اور ساتھ میں تین لاشیں بھی پڑی ہیں تو یہ دیکھ کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اپنے ساتھ موجود لوگوں سے فرمایا:  ’’ دیکھ لو ! دنیا کا یہ حال ہے،  پس تم پر لازم ہے کہ اس سے بچتے رہو۔ ‘‘  (1) 
	پیارے مدنی منو! دیکھا آپ نے کہ اس شخص کو جھوٹ اور مالِ دنیا کی محبت نے برباد کر دیا اور نہ اسے دولت ملی اور نہ ہی جھوٹ سے کوئی فائدہ ہوا بلکہ جان سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ دنیا و آخرت کا نقصان بھی اٹھانا پڑا۔
نہ مجھ کو آزما دنیا کا مال و زر عطا کر کے
عطا کر اپنا غم اور چشم گریاں یا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
٭…٭…٭
  



________________________________
 - 1    اتحاف السادۃ المتقین،  ج۹،  ص۸۳۵