Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
68 - 99
	چلتے چلتے ایک دریا پر پہنچے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا اور پانی کے اوپر چلتے ہوئے دریا کے دوسرے کنارے پہنچ گئے۔ اب پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اس شخص سے فرمایا:  تجھے اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے مجھے یہ معجزہ دکھانے کی قدرت عطا کی! سچ سچ بتا وہ تیسری روٹی کہاں گئی؟  اس بار بھی اس نے یہی جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم۔ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے فرمایا:  آؤ! آگے چلیں ۔ 
	چلتے چلتے ایک ریگستان میں پہنچ گئے جہاں ہر طرف ریت ریت ہی تھی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے کچھ ریت جمع کی اور فرمایا:  اے ریت! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے سونا بن جا۔ تو وہ ریت فوراً سونا بن گئی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اس کے تین حصے کیے اور فرمایا:  ایک حصہ میرا،  دوسرا تیرا اور تیسرا اس کا جس نے وہ روٹی لی۔ یہ سنتے ہی وہ شخص جھٹ بول اُٹھا:  وہ روٹی میں نے ہی لی تھی۔یہ معلوم ہونے کے بعد حضرت سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام  نے اس شخص سے فرمایا: یہ سارا سونا تم ہی لے لو۔ بس میرا اور تیرا اتنا ہی ساتھ تھا۔ 
	اتنا کہنے کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام  اس شخص کو وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو گئے۔ وہ اتنا زیادہ سونا مل جانے پر بہت خوش تھا،  جب سارا سونا ایک چادر میں لپیٹ کر واپس گھر کو لوٹنے لگا تو راستے میں اسے دو شخص ملے جنہوں نے اس کے پاس اتنا سونا دیکھ کر اسے قتل کرکے سارا سونا چھین لینے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ جب وہ اسے قتل کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو وہ شخص جان بچانے کی خاطر بولا:  تم مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟  اگر سونا لینا چاہتے ہو تو ہم اس کے تین حصے کر لیتے ہیں اور ایک ایک حصہ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ۔ وہ دونوں اس پر راضی ہو گئے۔ پھر وہ شخص بولاکہ بہتر یہ ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی تھوڑا سا سونا لے کر قریب کے شہر میں جائے اور کھانا خرید لائے تا کہ کھا پی کر سونا تقسیم کریں ۔