خدمت کرنا اور علم شریعت حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ مجھے بھی اپنے ساتھ سفر کی اجازت عطا فرما دیجئے۔ پس آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے اجازت عطا فرما دی اور یوں یہ دونوں ایک ساتھ سفر کرنے لگے۔ چلتے چلتے راستے میں ایک نہر کے کنارے پہنچے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: ’’ آؤ کھانا کھا لیں۔ ‘‘ دونوں کھانا کھانے لگے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس تین روٹیاں تھیں جب دونوں ایک ایک روٹی کھا چکے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نہر سے پانی نوش فرمانے لگے۔ پیچھے سے اس شخص نے تیسری روٹی چھپا لی۔ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام پانی پی کر واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ تیسری روٹی غائب ہے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس شخص سے پوچھا: تیسری روٹی کہاں گئی؟ اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام خاموش ہو رہے، پھر تھوڑی دیر بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: آؤ! آگے چلیں ۔
دورانِ سفر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے راستے میں ایک ہرنی کو اپنے دو خوبصورت بچوں کے ساتھ کھڑے دیکھا تو ہرنی کے ایک بچے کو اپنی طرف بلایا، وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا حکم پاتے ہی فوراً حاضرِ خدمت ہو گیا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے ذبح کیا، بھونا اور دونوں نے مل کر اس کا گوشت کھایا۔ گوشت کھانے کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کی ہڈیاں ایک جگہ جمع کیں اور فرمایا: قُمْ بِاِذْنِ اللہ۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے کھڑا ہو جا۔ تو یکایک ہرنی کا وہ بچہ زندہ ہو گیا اور پھر اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس شخص سے فرمایا: تجھے اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے مجھے یہ معجزہ دکھانے کی قدرت عطا کی! سچ سچ بتا وہ تیسری روٹی کہاں گئی؟ وہ بولا: مجھے نہیں معلوم۔ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: چلو آؤ! آگے چلیں ۔