Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
65 - 99
٭… چلتے وقت ان سے آگے نہ بڑھئے۔
٭… استاد سے جھوٹ بولنا باعثِ محرومی ہے لہٰذا استاد سے ہمیشہ سچ بولئے۔
٭… ان سے نگاہ نہ ملائیے بلکہ نگاہ نیچی رکھئے۔
٭… اسی طرح ہر نماز کے بعد اپنے اساتذہ اور والدین کے لئے ہمیشہ دعاکرتے رہئے۔
٭… آپ جہاں پڑھتے ہیں اس مدرسہ کے دیگر اساتذہ جو آپ کو اگرچہ نہیں پڑھاتے ان کا ادب بھی لازم جانئے۔
٭… استاد کی ناشکری سے بچئے کیونکہ یہ ایک خوفناک بلا اور تباہ کن بیماری ہے اور علم کی برکتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا نہیں کیا۔ ‘‘ (1) 
٭… درجے سے باہر آتے جاتے استاد صاحب سے اجازت ضرور لیجئے۔
٭… استاد صاحب آپ کو جو بھی جدول بنا کر دیں اس پر مدرسے اور گھر میں عمل کرکے وقت پر اپنے اسباق سنا کر استاد صاحب کے دل سے دعائیں لیجئے۔
٭… استاد کی سختی کو اپنے لئے باعث ِ رحمت جانئے۔ قولِ مشہور ہے کہ ’’ جو استاد کی سختیا ں نہیں جھیل سکتا اسے زمانے کی سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں ۔‘‘
٭…٭…٭



________________________________
 - 1    سنن الترمذي،  کتاب البرّ والصلۃ،  باب ما جاء في الشکر... إلخ،  الحدیث: ۱۹۶۲،  ج۳،  ص۳۸۴