٭… دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے اور اس سے برص یعنی کوڑھ کے مرض کا اندیشہ ہے۔ (1)
٭… ناخُن کاٹنے کے بعد ان کو دَفن کر دیجئے اور اگر ان کو پھینک دیں تو بھی حَرَج نہیں ۔
٭… ناخن کا تَراشہ (یعنی کٹے ہوئے ناخن) بیتُ الْخَلا یا غسل خانے میں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے ۔ (2)
٭… بدھ کے دن ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں کہ برص یعنی کوڑھ ہوجانے کا اندیشہ ہے البتہ اگر اُنتالیس (39) دن سے نہیں کاٹے تھے، آج بد ھ کو چالیسواں دن ہے اگر آج نہیں کاٹتا توچالیس دن سے زائد ہوجائیں گے تو اس پر واجِب ہوگا کہ آج ہی کے دن کاٹے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے۔ (3)
٭…٭…٭
صبر و تحمل کی اعلٰی مثال
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نقل فرماتے ہیں: کسی شخص نے امیرالمومنین سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے سخت کلامی کی۔ آپ نے سر جھکا لیا اور فرمایا: کیاتم یہ چاہتے ہوکہ مجھے غُصّہ آجائے اور شیطان مجھے تکبراور حکومت کے غُرور میں مبتَلا کرے اور میں تم کو ظلم کا نشانہ بناؤں اوربَروزِ قِیامت تم مجھ سے اِس کا بدلہ لو مجھ سے یہ ہر گز نہیں ہوگا۔ یہ فرما کر خاموش ہوگئے۔
(کیمیائے سعادت ج۲ص۵۹۷انتشارات گنجینہ تہران)
________________________________
- 1 المرجع السابق، ص۲۲۷
- 2 بهارِ شريعت، حصه ۱۶، ص۲۳۱
- 3 المرجع السابق، ص۲۲۶ تا ۲۲۷