Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد2
53 - 99
٭… فرمانِ  مُصطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ہے:  جو مسلمان اپنے بھائی سے مُصافَحہ کرے اورکسی کے دل میں دوسرے سے عداوت نہ ہو تو ہاتھ جدا ہونے سے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں کے گزَشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی طرف مَحَبَّت بھری نظر سے دیکھے اور اُس کے دل یا سینے میں عداوت نہ ہو تو نگاہ لوٹنے سے پہلے دونوں کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (1) 
٭… جتنی بار ملاقات ہو ہر بار ہاتھ ملانا مستحب ہے۔ (2) 
٭… دونوں طرف سے ایک ایک ہاتھ ملانا سنّت نہیں مصافحہ دو ہاتھ سے کرنا سنّت ہے ۔ (3) 
٭… بعض لوگ صِرف اُنگلیاں ہی آپس میں ٹکڑا دیتے ہیں یہ بھی سنت نہیں ۔  (4) 
٭… ہاتھ ملانے کے بعد خود اپنا ہی ہاتھ چوم لینا مکروہ ہے۔ (5) 
٭… مُصافَحَہ کرتے  (یعنی ہاتھ ملاتے) وقت سنّت یہ ہے کہ ہاتھ میں کوئی چیز مثلاًرومال وغیرہ حائل نہ ہو،  دونوں ہتھیلیاں خالی ہوں اور ہتھیلی سے ہتھیلی ملنی چاہیے۔ (6) 
٭…٭…٭



________________________________
- 1    کنز العمال، کتاب الصحبة،  الحديث:۲۵۳۵۸،  ج۹،  ص۵۷
- 2    رد المحتار،  کتاب الحظر والاباحة،  باب الاستبراء وغيره،  ج۹،  ص۶۲۸
- 3    المرجع السابق،  ص۶۲۹
- 4    المرجع السابق
- 5     تبيين الحقائق،  کتاب الکراهية،  فصل فی الاستبراء وغيره،  ج۷،  ص۵۶
- 6    رد المحتار،  کتاب الحظر والاباحة،  باب الاستبراء وغيره،  ج۹،  ص۶۲۹