٭آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جھوٹا کہنے والے کا اندھا ہوجانا۔ (1)
٭کون کہاں مرے گا، کہاں دفن ہوگا کی خبر دینا۔ (2)
٭آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر میں فرشتوں کا چکی چلانا ۔ (3)
٭اپنی وفات کی خبر دینا۔ (4)
٭گھوڑے پر سوار ہوتے ہوئے قرآن ختم کرلینا۔ (5)
٭…٭…٭
حیاایمان سے ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: حیا ایمان سے ہے۔ (مسند ابی یعلی، الحدیث: ۷۴۶۳، ج۶ ص۲۹۱ ) یعنی جس طرح ایمان، مومِن کو کُفر کے اِرتکِاب سے روکتا ہے اِسی طرح حیا باحیا کو نافرمانیوں سے بچاتی ہے۔ اس کی مزید وضَاحت و تائید حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی اِس روایت سے ہوتی ہے: بے شک حیا اور ایمان دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں، جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم، الحدیث: ۶۶ ، ج۱، ص۱۷۶)
________________________________
- 1 ازالة الخفاء، مقصد دوم، ج۴، ص۴۹۶
- 2 الرياض النضرة، الباب الرابع، ج۲، ص۲۰۱
- 3 المرجع السابق، ص۲۰۲
- 4 المرجع السابق
- 5 شواهد النبوة، ركن سادس در بيان شواهد الخ، ص۲۱۲