کراماتِ صحا بہ و اَولیائے کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیہِمْ اَجْمَعِین
سوال: کرامت کسے کہتے ہیں ؟
جواب: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کسی ولی سے خلافِ عادت ظاہر ہونے والی بات کو کرامت کہتے ہیں ۔
سوال: کرامت کی کتنی قسمیں ہیں ؟
جواب: علامہ تاج الدین سبکی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیہ نے اپنی کتاب ’’ طَبَقَاتُ الشَّافِعِیَّۃِ الْکُبْریٰ ‘‘ میں اولیائے کرام کی کرامات سے متعلق ایک سو (۱۰۰) سے زائد اقسام تحریر فرمائی ہیں ۔ ان میں سے چند اقسام یہ ہیں :
٭…مردوں کو زندہ کرنا ٭… مردوں سے کلام کرنا
٭…دریاؤں پر تصرف ٭… زمین کو سمیٹ دینا
٭…نباتات سے گفتگو ٭… شفائے امراض
٭…مقبولیتِ دعا ٭… زمانہ مختصر و طویل ہو جانا
٭… جانوروں کا فرماں بردارہونا ٭… غیب کی خبریں دینا
٭… دلوں کو اپنی طرف کھینچنا ٭… کھائے پئے بغیر زندہ رہنا وغیرہ
سوال: چند اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی کرامات بیان کیجئے؟