سوال: قرآن شریف کی تلاوت سننے کے بجائے باتیں کرنا یا اِدھر اُدھر دیکھنا کیسا ہے؟
جواب: قرآن شریف کی تلاوت خاموشی اور توجہ سے سننا چاہیے اس دوران گفتگو کرنا گناہے۔
سوال: بہت سے اسلامی بھائیوں کا قرآن خوانی وغیرہ میں بلند آواز سے قرآن شریف پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: اجتماعی طور پر بلند آواز سے قرآن پڑھنا منع ہے، ایسے موقع پر سب کو آہستہ آواسوال: میں قرآن شریف پڑھنا چاہیے ۔
سوال: مدرسہ میں طلبہ بلند آواز سے قرآن شریف پڑھیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: مدرسہ میں طلبہ کا بلند آواز سے قرآن شریف پڑھنا جائز ہے۔
٭…٭…٭
علم سے بہتر کوئی شے نہیں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک صحابی سے محوِ گفتگو تھے کہ وحی نازل ہوئی: اس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر) باقی رہ گئی ہے۔ یہ وقت ِ عصر تھا۔ رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب یہ بات اس صحابی کو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہو کر التجا کی: ’’ یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ علم سیکھنے میں مشغول ہو جاؤ۔ ‘‘ چنانچہ وہ صحابی علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے بہتر کوئی شے ہوتی تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسی کا حکم ارشاد فرماتے (تفسیر کبیر، سورة البقره، ج۱، ص۴۱۰)