جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
کل جہاں ملک اور جَو کی روٹی غِذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اُس دِ ل اَفروز ساعت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
غوثِ اعظم اِمامُ التُّقٰی وَ النُّقٰی
جلوۂ شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
کاش محشر میں جب اُن کی آمد ہو اور
بھیجیں سب اُن کی شوکت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
مجھ سے خدمت کے قُدسی کہیں ہاں رضاؔ
مصطفےٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
٭…٭…٭
فیض سے جن کے لاکھوں عمامے سجے میرے شیخِ طریقت پہ لاکھوں سلام
جس نے نیکی کی دَعوت کا جذبہ دیا اُس اَمیر اہلسنّت پہ لاکھوں سلام