Brailvi Books

علمُ القرآن
57 - 244
یوسف علیہ السلام کے بھائی قصور مند تھے مگر بے ادب نہ تھے آخر بخش دیئے گئے ۔ قابیل یعنی آدم علیہ السلام کا بیٹا جرم کے ساتھ نبی کا گستاخ بھی تھالہٰذا خاتمہ خراب ہو ا۔
شرک
    شرک کے لغوی معنی ہیں حصہ یا ساجھا ۔ لہٰذا شریک کے معنی ہیں حصہ دار یا ساجھی۔

رب تعالیٰ فرماتا ہے :
(1) اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ۚ
کیا ان بتوں کا ان آسمانوں میں حصہ ہے ۔(پ22،فاطر:40)
(2) ہَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَہُمْ کَخِیۡفَتِکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ؕ
کیا تمہارے مملوک غلاموں میں سے کوئی شریک ہے اس میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو ان غلاموں سے تم ایساڈرو جیسا اپنے نفسوں سے ڈرتے ہو(پ21،الروم:28)
(3) رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ
ایک وہ غلام جس میں برابر کے چند شریک ہوں اور ایک وہ غلام جو ایک ہی آدمی کا ہو ۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں(پ23،زمر:29)

    ان آیتوں میں شرک اور شریک لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی حصہ ، ساجھا اور حصہ دار وساجھی ۔ لہٰذا شرک کے لغوی معنی ہیں کسی کو خدا کے برابر جاننا ۔ قرآن کریم میں یہ لفظ ان دونوں معنی میں استعمال ہواہے ۔شرک بمعنی کفران آیات میں آیا :
Flag Counter