اس دن تمہارے بعض بعض کا انکار کریں گے اور بعض بعض پر لعنت کریں گے ۔(پ۲۰،عنکبوت:۲۵)
(3) وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾
یہ معبود ان باطلہ ان کی عبادت کے انکاری ہوجاویں گے۔(پ26،الاحقاف:6)
ان تمام آیات میں کفر بمعنی انکار ہے نہ کہ اسلام سے پھر جانا ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
(1) قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾
فرمادو کافر و میں تمہارے معبودوں کو نہیں پوجتا۔(پ30الکٰفرون:1۔2)
(2) فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ
پس وہ کافر (نمرود )حیران رہ گیا۔(پ3،البقرۃ:258)
(3) وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾
اور کافر لوگ ظالم ہیں ۔(پ3،البقرۃ:254)
(4) لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ
وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا ، اللہ عیسی ابن مریم ہیں۔(پ6،المآئدۃ:17)