(5) لَّا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلًا ﴿۱۰۹﴾
شفاعت نفع نہ دے گی مگر ان کو جس کے لئے رب نے اجازت دی اور اس کے کلام سے رب راضی ہوا ۔(پ16،طٰہٰ:109)
ان جیسی بہت سی آیتو ں میں مسلمانوں کی شفاعت مراد ہے جو اللہ کے پیارے بندے کریں گے تا کہ آیات میں تعارض نہ ہو۔
نوٹ ضروری : جس حدیث میں ارشاد ہے کہ سنت چھوڑنے والا شفاعت سے محروم ہے۔ اس سے بلندی درجات کی شفاعت مراد ہے یعنی اس کے درجے بلند نہ کرائے جائیں گے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ گناہ کبیرہ والوں کے لئے شفاعت ہے یعنی بخشش کی شفاعت ، نیز بعض روایات میں ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے والے اپنے جانور اور مال کندھے پر لادے ہوئے حاضر بارگاہ نبوی ہوں گے اور شفاعت کی درخواست کریں گے مگر انہیں شفاعت سے منع کردیا جاوے گا ۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جوزکوٰۃ کے منکر ہو کر کافر ہوگئے تھے اور کافر کی شفاعت نہیں جیسے خلافت صدیقی میں بعض لوگ زکوٰۃ کے منکر ہوگئے یا مراد ہے شفاعت نہ کرنا نہ کہ نہ کرسکنا ، اس کا بہت خیال چاہیے یہاں بہت دھوکا لگتا ہے ۔