| علمُ القرآن |
اور وہ نبی غیب بتانے پر بخیل نہیں۔(پ30،التکویر:24)
ان جیسی تمام آیتو ں میں علم غیب عطائی، غیر مستقل ،حادث ، عارضی مراد ہے کیونکہ یہ علم غیب بندہ کی صفت ہے جب بندہ خود غیر مستقل اور حادث ہے تو اس کی تمام صفات بھی ایسی ہی ہوں گی۔قاعدہ نمبر۱۷: شفاعت کی قسمیں اوران کی پہچان
الف: جن آیتوں میں شفاعت کی نفی ہے وہا ں یا تو دھونس کی شفاعت مراد ہے یاکفار کے لئے شفاعت یا بتوں کی شفاعت مراد ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے جبراً شفاعت کوئی نہیں کرسکتا یا کافروں کی شفاعت نہیں یا بت شفیع نہیں ۔
ب:جہاں قرآن شریف میں شفاعت کاثبوت ہے وہاں اللہ کے پیاروں کی مومنوں کے لئے محبت والی شفاعت بالا ذن مراد ہے یعنی اللہ کے پیارے بندے مومنو ں کو اللہ تعالیٰ کی اجازت سے محبو بیت کی بنا پر بخشوائیں گے ۔
''الف ''کی مثال یہ ہے :(1) یَوْمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خُلَّۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌ ؕ
وہ قیامت کادن جس میں نہ خرید وفروخت ہے نہ دوستی نہ شفاعت ۔(پ3،البقرۃ:254)
(2) وَاتَّقُوۡا یَوْمًا لَّا تَجْزِیۡ نَفْسٌ عَنۡ نَّفْسٍ شَیْـًٔا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا تَنۡفَعُہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا ہُمْ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
اور اس دن سے ڈرو کہ کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوگی اور نہ اس کو کچھ لے کر چھوڑدیں اور نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے اور نہ ان کی مدد ہو ۔(پ1،البقرۃ:123)