Brailvi Books

علمُ القرآن
147 - 244
اس آیت نے بتایا کہ کافر گویا اندھا، بہرا ہے ۔
(3) اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَ اَعْمٰۤی اَبْصَارَہُمْ ﴿۲۳﴾
یہ کفار وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی پس انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا ۔

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ لعنت سے آدمی اندھا، بہر ا ہوجاتا ہے یعنی دل کا اندھا ،بہرا ۔(پ26،محمد:23)
(4) وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ ٭ اَجَعَلْنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعْبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾
جورسول ہم نے آپ سے پہلے بھیجے ان سے پوچھئے کہ کیا ہم نے اللہ کے سوااور معبود بنائے ہیں جن کی پوجا کی جاوے ۔(پ۲۵،الزخرف:۴۵)

    اس آیت نے بتایا کہ اللہ کے پیارے بندے وفات کے بعد سنتے بھی ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں ۔ اگر گزشتہ وفات یا فتہ پیغمبر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا کلام نہ سنتے یا جواب نہ دیتے تو ان سے پوچھنے کے کیا معنی تھے۔ مردو ں کے سننے کی اور آیات بھی ہیں جو پہلے باب میں دعا کے معنی میں بیان کی جاچکیں۔

    ہماری ان مذکورہ آیتوں نے بتادیا کہ جہاں مردو ں کے سننے سنانے کی نفی کی گئی ہے وہاں مردو ں سے مراد کافر ہیں ۔ ان آیتو ں سے یہ ثابت کرنا کہ مردے سنتے نہیں بالکل جہالت ہے ورنہ التحیات میں حضور کو سلام او رقبر ستان میں مردوں کو سلام نہ کرایا جاتا کیونکہ نہ سننے والے کو سلام کرنا منع ہے ۔ اسی لئے سوتے ہوئے کو سلام نہیں کرسکتے ۔
Flag Counter