Brailvi Books

علمُ القرآن
107 - 244
(5) وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾
اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلی پرہیز گاری ہے ۔(پ17،الحج:32)

    غرضیکہ تعظیم واطاعت بندے کی بھی ہوسکتی ہے لیکن عبادت صرف اللہ کی جب عبادت میں یہ شرط ہے کہ الٰہ جان کر کسی کی تعظیم کرنا تو یہ بھی سمجھ لو کہ الٰہ کون ہے اس کی پوری تحقیق ہم الٰہ کی بحث میں کر چکے کہ الٰہ وہ ہے جسے خالق مانا جائے یا خالق کے برابر ۔ برابری خواہ خدا کی اولاد مان کر ہو یا اس طر ح مستقل مالک ، حاکم ، حی ، قیوم مان کریا اللہ تعالیٰ کو اس کا حاجت مند مان کر ہو ۔ ایک ہی کام اس عقیدے سے ہو تو عبادت ہے اور اس عقیدے کے بغیر ہو تو عبادت نہیں۔

دیکھو رب تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو :
(1) فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۲۹﴾
پس جب میں انہیں برابر کردو ں اور ان میں اپنی روح پھونک دو ں تو تم ان کیلئے سجدہ میں گر جاؤ۔(پ14،الحجر:29)
(2) وَرَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا
اور یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پراٹھالیا اور وہ سب ان کے سامنے سجدے میں گر گئے ۔(پ13،یوسف:100)

    ان آیتو ں سے پتا لگا کہ فرشتو ں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا ۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں سجدہ کیا اور بھی امتوں میں سجدہ کا رواج تھا کہ چھوٹے بڑوں کو سجدہ کرتے تھے پھر یہ بھی فرمایا :
Flag Counter