اس طرح میل ملاپ رکھو کہ دین میں میری پیروی کرو اور لوگوں کی پیروی سے بچتے رہو لیکن تمہیں ان کی جو بات میری محبت کے موافق معلوم ہو اس کو اختیار کرو اور جو بات تم پر مشتبہ رہے تو اس میں میری پیروی کرو۔ میرے ذِمَّۂِ کرم پر ہے کہ میں تمہاری تدبیروسیاست اور دُرستی کو جلد پایۂ تکمیل تک پہنچاؤں اور تمہارا قائد اور ہادی رہوں۔ میں بغیر سوال کے تمہیں عطا کرتا ہوں اور شدائد میں تمہاری اِعانت کرتا ہوں اور مجھے قسم ہے کہ صرف اسی بندے کو ثواب عطا کروں گا جس کا مقصد اور ارادہ میرے حضور عاجزی کرنا ہے اور وہ مجھ سے بے نیاز نہ ہو۔ اے داؤد! اگر تم ایسے ہو تو میں ذِلَّت اور وحشت کو تم سے دوررکھوں گا اورتمہارے دل کو غَنا سے آباد رکھوں گا کیونکہ میرے ذِمَّۂِ کرم پر ہے کہ میرا جو بندہ اپنے نفس پر مطمئن ہوکر افعالِ نفس کی نگرانی کرتا ہے تو میں اس کے نفس کو اس کے سپرد کر دیتا ہوں۔ اشیاء کی نسبت میری طرف کر و اور تمہارا عمل اس کے خلاف نہ ہو ورنہ تم مشقت میں پڑجاؤ گے اور تمہارے ساتھی تم سے نفع نہیں اٹھا پائیں گے اور تم میری معرفت کی کوئی حد نہیں پاؤ گے کیونکہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔ جب تم مجھ سے زیادہ مانگو گے میں زیادہ عطا کروں گا لیکن تم میری طرف سے زیادتی کی کوئی حد نہیں پاؤ گے۔
پھرتم بنی اسرائیل کو بتا دو کہ میرے اور مخلوق کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے اس لئے میرے نزدیک ان کی رغبت اور ارادہ زیادہ ہونا چاہئے۔ میں انہیں ایسی نعمتیں عطا کروں گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی آدمی کے دل پر ان کا خیال گزرا۔ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں اور ان لوگوں کی طرف اپنے سر کی آنکھوں سے مت دیکھیں جن کی عقلیں مجھ سے حجاب میں ہیں، جنہوں نے اپنی عقلوں کو کہیں اور مگن کرلیاہے اور جن سے میں نے اپنا ثواب مُنْقَطَع کر دیا ہے کیونکہ مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! میں اپنا ثواب اس بندے کے لئے نہیں کھولوں گا جو تجربہ یا ٹال مٹول کے طور پرمیری طاعت میں داخل ہوا ہو۔ جس کو تم سکھاؤ اس کے لئے تواضع کرو اوراہْلِ ارادت پر زیادتی نہ کرو۔ اگر اہْلِ محبت جان لیں کہ ارادت مندوں کا میرے نزدیک کیا مقام ہے تو وہ اُن کے لئے زمین بن جائیں تا کہ وہ ان پر چلیں۔
اے داؤد! اگر تم کسی ارادت مند کو غفلت کے نشہ سے نکالو اور اسےاِس نشے سے نجات دلاؤ تو میں تمہیں اپنے ہاں انتہائی کوشش کرنے والا لکھوں گا اور جس کو میں اپنے ہاں ایسا لکھ لیتا ہوں اس پر کوئی وحشت نہیں ہوتی اور نہ اس کو مخلوق کی محتاجی ہوتی ہے۔