اور اگر وہ بیمار پڑ جائے تو میں اس کی اس طرح تیمار داری کرتا ہوں جس طرح ایک شفیق ماں اپنے بیٹے کی تیمارداری کرتی ہے، اگر وہ پیاسا ہو تو اس کو سیراب کرتا ہوں اور اس کو اپنے ذکر کا مزہ وحلاوت چکھاتا ہوں۔
اے داؤد! اس کے بعد اس کے نفس کو دنیا اور اہْلِ دنیا سے اندھا کر دیتا ہوں اور دنیا کو اس کی نظروں میں محبوب نہیں بناتا اور وہ میری ذات میں مشغول ہونے سے کوتاہی نہیں کرتا، میرے پاس جلدی آنا چاہتا ہے لیکن میں اس کو موت دینا پسند نہیں کرتا کیونکہ مخلوق میں وہ میری نظر کا محل ہوتا ہے، وہ میرے سوا کسی کو نہیں دیکھتا اور میں اس کے سوا کسی پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔
اے داؤد!جب میں اس کو دیکھتا ہوں کہ اس کا نفس گھُل گیا، جسم لاغر ہو گیا ہے اوراعضاء ٹوٹ کر چورہ چورہ ہو چکے ہیں اور جب میرا ذکر سنتا ہے تو اس کا دل اپنی جگہ چھوڑدیتا ہے تو میں اپنے تمام فرشتوں اور آسمان والوں پر اس کے باعث فخر کرتا ہوں تو اس کے خوف اور عبادت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم !میں اسے جنَّتُ الفردوس میں جگہ عطا فرماؤں گا اور اپنے دیدار سے اس کا دل ٹھنڈا کروں گا حتی کہ وہ راضی ہوجائے۔
اہلِ شوق اورقلبی نگاہوں سے دیدار:
(6)…اسی طرح منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیّدنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ارشاد فرمایا:”اے داؤد! جو بندے میری محبت کی طرف متوجہ ہیں ان سے فرما دو تمہارا اس میں کیا نقصان ہے اگر میں اپنی مخلوق سے تو حجاب میں رہوں اور اپنے اور تمہارے درمیان سے حجاب اٹھا دوں تا کہ تم مجھے اپنی قلبی نگاہوں سے دیکھواور تمہارا کیا نقصان ہے اگر میں دنیا کو تم سے ہٹا دوں اور اپنے دین کو تمہارے لئے پھیلا دوں اور مخلوق کی ناراضی سے تمہیں کیا نقصان ہوگا جبکہ تم میری رضا چاہتے ہو۔“
اہل شوق کے لئے خُدائی ہدایات:
(7)…حضرت سَیّدنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات میں یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ ”تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو اپنے دل سے دنیا کی محبت دور رکھو کیونکہ ایک دل میں میری محبت اور دنیا کی محبت جمع نہیں ہو سکتی۔ اے داؤد! میرےخالص مُحِب بنے رہو اور اہْلِ دنیا کے ساتھ