راستہ ملے۔“
٭…دسویں نے عرض کی:’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم پر اپنی دائمی توجہ کے ساتھ متوجہ رہ۔“
٭…گیارہویں نے کہا:’’الٰہی عَزَّ وَجَلَّ! تونے جو نعمتیں ہمیں عطا فرمائیں اور ہم پر جو احسانات کئے ان کی تمامیت کا سوال کرتے ہیں۔“
٭…بارہویں نے کہا:’’تیری مخلوق میں ہمیں کسی چیز کی حاجت نہیں بس اپنے وجہِ کریم کے جمال کی زیارت سے ہم پراحسان فرما۔“
٭…تیرہواں عرض گزار ہوا:’’الٰہی عَزَّ وَجَلَّ میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ میری آنکھو ں کو دنیا اور اہْلِ دنیا کی طرف نظر کرنے اور میرے دل کو آخرت سے غافل ہونے سے اندھا کردے۔“
٭…چودہویں نے عرض کی :’’اے بابرکت اور بلند و بالا ذات! میں جانتا ہوں کہ بے شک تو اپنے اولیا سے محبت کرتا ہے بس ہم پر یہ احسان فرما کہ ہمارے دل سب کو چھوڑ کر صرف تیری ذات میں مشغول رہیں۔“
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سَیّدنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ”ان سے فرمادو کہ میں نے تمہاری باتیں سنیں اورجو تمہیں پسند ہے میں نے اسے قبول کیا پس تم میں سے ہر ایک اپنے رفیق سے جدا ہوجائے اور اپنے لئے زمین میں ایک تہہ خانہ بنا لے کیونکہ میں اپنے اور تمہارے درمیان سے حجاب اٹھانے والا ہوں تاکہ تم میرا نور اور جلال دیکھ سکو۔“
حضرت سَیّدنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:مولا!یہ لوگ اس مقام تک کیسے پہنچے؟ارشاد فرمایا:میرے بارے میں حسْنِ ظن رکھنے، دنیا اور اہْلِ دنیا سے الگ رہنے، میرے لئے خَلْوَت اختیار کرنے اور مجھ سے مناجات کرنے کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے اور یہ وہ مقام ہے جس کو صرف وہ شخص پا سکتا ہے جو دنیا اور اہْلِ دنیا کو چھوڑ دے اور کسی دنیاوی چیز کی یاد میں مشغول نہ ہواور اپنے دل کو میرے لئے خالی رکھے اور میری تمام مخلوق پر مجھے اختیار کرے۔ اس وقت میں اس پر لطف و کرم کرتا ہوں، اس کے نفس کو فارغ کر کے اپنے اور اس کے درمیان سے حجاب اٹھا دیتا ہوں تا کہ وہ مجھ کو اس طرح دیکھے جس طرح کوئی شخص اپنی آنکھ سے کسی چیز کو دیکھتا ہے اورمیں ہر گھڑی اس کو اپنی بزرگیاں دکھاتا ہوں، اُسے اپنے وجہِ کریم کے نو ر سے قریب کرتا ہوں